
ایکنا نیوز- قدیم نسلیں بیان کرتی ہیں کہ سفرِ حج صرف مکہ مکرمہ تک پہنچنے کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ ایک روحانی اور سماجی باب ہوا کرتا تھا؛ ایسا سفر جس میں بیابانوں کے دل میں تکبیر کی صدائیں گونجتی تھیں اور خوف، خوشی، دعا اور مناجات کے جذبات آپس میں گھل مل جاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سفر اُس سادہ دورِ زندگی کی ایک نمایاں یادگار بن کر اجتماعی حافظے میں محفوظ ہوگئے۔
یہ ویڈیو سن 1928ء (تقریباً 98 سال قبل) کے مناظر پیش کرتی ہے، جو اس حقیقت کو آشکار کرتے ہیں کہ ایک صدی پہلے حج کا سفر کس قدر دشوار تھا۔ اُس زمانے میں مکہ مکرمہ پہنچنے اور مناسکِ حج ادا کرنے کے لیے بے پناہ مشقتیں برداشت کرنا پڑتی تھیں، لیکن بیت اللہ تک پہنچنے کی تڑپ اور شوق ہر رکاوٹ سے زیادہ طاقتور تھا۔/
ویڈیو: